از قلم: ضحیٰ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
اس زمانے میں ہمارے لیے ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی حضرت امام مہدی حجۃ بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ذاتِ اقدس ہے، اور اس حقیقت کی دلیل اہلِ تشیع کی معتبر کتابوں میں واضح طور پر موجود ہے۔
شیخ کلینی نے امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ امام، مونس و غم خوار، شفیق باپ، ہمدرد بھائی، چھوٹے بچے کے لیے مہربان ماں، اور سخت مصیبتوں میں بندگانِ خدا کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔ آج کے دور کی تمام مصیبتوں میں ہماری حقیقی پناہ گاہ بھی امام زمانہ علیہ السلام ہی ہیں۔
شیخ صدوق، امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ جس طرح بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا سورج اپنی روشنی اور حرارت پہنچاتا رہتا ہے، اسی طرح غیبت کے زمانے میں بھی امت، امام کے وجودِ مبارک سے فیض یاب ہوتی ہے۔ یہی حقیقت "مصباح الہدیٰ" کا مصداق ہے؛ چراغ پردۂ غیبت میں ہے، مگر اس کی روشنی برابر پہنچ رہی ہے۔
علامہ مجلسی نے بھی بحار الانوار میں امام زمانہ علیہ السلام کی توقیعِ شریف نقل کی ہے:"ہم تمہاری نگہداشت سے غافل نہیں ہیں اور نہ ہی تمہیں بھولے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر بلائیں ٹوٹ پڑتیں اور دشمن تمہیں جڑ سے اکھاڑ دیتے۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کی بقا، دین کی حفاظت اور مومنین کی سلامتی امام کے وجودِ مبارک کی برکت سے ہے، اور یہی "سفینۃ النجاۃ" کا کردار ہے کہ کشتی کا ناخدا اگرچہ مسافروں کو نظر نہ آئے، پھر بھی انہیں طوفان سے محفوظ رکھتا ہے۔
شیخ طوسی کتاب الغیبۃ میں فرماتے ہیں کہ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، کیونکہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی زمین حجتِ خدا سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے باشندوں سمیت دھنس جائے۔ لہٰذا اس زمانے کے امام، حضرت مہدی علیہ السلام ہیں اور وہی ہمارے چراغِ ہدایت ہیں۔
شیخ مفید لکھتے ہیں: امام مہدی علیہ السلام وہی ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ پس جو ہستی ظلم کے اندھیروں کو عدل کے نور سے بدلنے والی ہو، وہی حقیقی مصباح الہدیٰ ہے۔
ابن قولویہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسین بن علی علیہما السلام آسمان میں زمین سے زیادہ عظمت رکھتے ہیں، اور عرشِ الٰہی کے دائیں جانب لکھا ہے: "حسین ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں۔" پھر امام حسین علیہ السلام کا نور ان کی اولاد میں جاری رہا، یہاں تک کہ حضرت قائم آل محمد علیہم السلام تک پہنچا۔ لہٰذا آج کے مصباح الہدیٰ اور سفینۃ النجاۃ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں۔
امام علیہ السلام کی توقیعِ مبارک میں ارشاد ہوا ہے:"پیش آنے والے واقعات میں ہمارے احادیث کے راویوں، یعنی فقہاء، کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں ان پر اللہ کی حجت ہوں۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت کے زمانے میں فقہاء، امام کے نور کے آئینے ہیں، لیکن اصل چراغ خود امام زمانہ علیہ السلام ہیں۔
سید بن طاؤوس لکھتے ہیں کہ ہر شبِ جمعہ مومنین کے اعمال امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں، اور آپ اپنے شیعوں کے لیے استغفار فرماتے ہیں۔ جو ہستی ہمارے لیے دعا کرے، ہماری حفاظت کرے اور ہماری مغفرت طلب کرے، وہی ہمارا حقیقی چراغِ ہدایت ہے۔
دعائے ندبہ میں ہم پکارتے ہیں: "کہاں ہے اللہ کی وہ باقی ماندہ حجت، جس سے زمین کبھی خالی نہیں ہوتی؟"
یہ پکار خود اس حقیقت کی گواہ ہے کہ منتظر جس چراغ کے ہیں، وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں۔
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو اللہ تعالیٰ بندوں کے سروں پر اپنا دستِ قدرت رکھے گا، ان کی عقلوں کو کامل کر دے گا اور ان کے فہم کو جمع کر دے گا۔ آج عقلوں کے انتشار اور فکری گمراہی کے دور میں کامل ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی امام ہیں۔
کامل الزیارات میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"
پس نجات کی کشتی میں سوار ہونے کی پہلی شرط، معرفتِ امامِ زمانہ علیہ السلام ہے۔
شیخ عباس قمی سفینۃ البحار میں لکھتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام کے دو طرح کے لطف ہیں: ایک عام، جو تمام انسانوں کے لیے ہے، جیسے رزق، بارش اور دفعِ بلا؛ اور دوسرا خاص، جو مومنین کے لیے ہے، جیسے توفیقِ اطاعت، گناہوں سے حفاظت اور قلبی اطمینان۔ اس اعتبار سے وہ بیک وقت مصباح بھی ہیں اور سفینہ بھی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"خوش نصیب ہے وہ شخص جو میرے اہلِ بیت کے قائم کو پائے اور ان کے قیام سے پہلے ہی ان کی اقتدا کرے۔"
یعنی غیبت کے زمانے میں بھی انہیں اپنا امام مانے اور ان کے احکام کی پیروی کرے۔ یہی حقیقی معنوں میں نجات کی کشتی میں سوار ہونا ہے۔
امام صادق علیہ السلام نے آیتِ کریمہ ﴿یَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ کی تفسیر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر قوم کو اس کے امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔ لہٰذا اس دور کے لوگ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ محشور ہوں گے۔ جو ان سے وابستہ نہ ہو، وہ کس کے ساتھ اٹھایا جائے گا؟
مکیال المکارم میں ذکر ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے نوّے سے زائد القاب میں "مصباح الدجیٰ" اور "سفینۃ النجاۃ" بھی شامل ہیں، جبکہ الزام الناصب میں امام کے وجود کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی سے تشبیہ دی گئی ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی پانی کے طوفان سے بچاتی تھی، جبکہ حضرت مہدی علیہ السلام کی کشتی گمراہی کے طوفان سے بچاتی ہے۔
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:"جس کا امام نہیں، اس کا دین نہیں۔"
لہٰذا آج ہمارا دین بھی امام زمانہ علیہ السلام سے وابستہ ہے۔ وہی ہمارے چراغ ہیں اور وہی ہماری نجات کی کشتی۔
امام صادق علیہ السلام نے آیت ﴿وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا﴾ کی تفسیر میں فرمایا کہ زمین کا نور حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں۔ جب وہ ظہور فرمائیں گے تو زمین ان کے نور سے روشن ہو جائے گی۔ پس آج بھی نور کا سرچشمہ وہی ہیں، اگرچہ پردۂ غیبت میں ہیں۔
اسی طرح متعدد روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، امام زمانہ علیہ السلام غیبت میں بھی مومنین کی دستگیری فرماتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔
امام علیہ السلام کی توقیع میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ اگر ہمارے شیعہ اپنے عہد پر ثابت قدم اور متحد رہیں تو ہماری ملاقات کی سعادت سے محروم نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چراغ موجود ہے، مگر ہماری نگاہیں اس کی طرف نہیں؛ کشتی موجود ہے، مگر ہم خود اس میں سوار ہونے سے غفلت برت رہے ہیں۔
لہٰذا اس دور میں ہمارا فریضہ ہے کہ دعائے عہد کی پابندی کریں، زیارت آلِ یٰسین کے ذریعے امام سے توسل کریں، نمازِ امام زمانہ ادا کریں، گناہوں سے اجتناب کریں اور اپنے اعمال کی اصلاح کریں، کیونکہ امام علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہمیں اپنے شیعوں سے دور رکھنے والی چیز صرف ان کے وہ اعمال ہیں جو ہمیں ناپسند ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ مصباح الہدیٰ کی روشنی ہم تک مکمل پہنچے اور سفینۃ النجاۃ ہمیں ساحلِ نجات تک پہنچا دے، تو ہمیں اپنے کردار، عقیدہ اور عمل کو امامِ زمانہ علیہ السلام کی رضا کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
پس حقیقت یہی ہے کہ اس دور میں ہمارا چراغِ ہدایت، ہماری نجات کی کشتی، ہمارے ولی، محافظ، رہبر اور ہادی صرف حضرت امام مہدی حجۃ بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں۔
اللّٰهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِيِّكَ الْفَرَجَ









آپ کا تبصرہ